گيا وقت پھر ہاتھ آتا نہيں

 وقت بے ثبات ہے, اس  کی قدر بےحد ضروری ہے کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس کی تلافی ممکن ۔ جو گھڑی گزر جاتی ہے، وہ ہمارے اختیار میں نہیں آ سکتی ۔ بہت سا وقت بے خبری میں ضائع ہوتا ہے۔ انسان کاہلی میں وقت برباد کرتا ہے اور بعد میں پشیمان ہوتا ہے۔ وقت سب سے تیز گزرنے والی چیز ہے، جو ایسے نکل جاتی ہے کہ خبر ہی نہیں رہتی۔   عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے”۔ وقت کو فضول اور غیر مفید کاموں میں ، ” صبح ہوتی ہےشام ہوتی ہے ہزگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسی وقت کو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جاۓ تو انسان لاﺋق،  ِ ہنرمند بنتا ہے اور خوبیوں سے آراستہ ہوتا ہے۔ ہمیں وقت کی اہمیت جان کر جلد از جلد عمل صالحہ اور نیکی کے کام کرنے چاہیے تاکہ یہ ہماری آئندہ زندگی میں کام آئیں، ورنہ فراغت کے دن دوبارہ نہیں آئیں گے۔ جوانی اور بڑھاپے کا وقت مختلف ہوتا ہے، جوانی میں وقت کو جیسے صرف کریں گے، بڑھاپے میں ویسا ہی پھل پائیں گے۔ یہ کبھی نہیں سوچنا کہ’ وقت ہے، بعد میں کریں گے’ کیونکہ کہ پروردگار کے علاوہ کسی کو بھی مستقبل کے حالات کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہے،کیا پتہ تندرستی رہے گی یا نہیں، فرصت ملے گی یا نہیں۔ چناچہ ہمیں مختلف اوقات میں مختلف کام کرنے چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ وقت رحمت اور لعنت، دونوں ہو سکتا ۔تاہم اس کو رحمت یا لعنت بنانا انسان پر منحصر ہے۔  :

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s